دوسروں کے مال ہڑپ کرجانے کی ممانعت



حدیث نمبر28

إِنَّ رِجَالاً يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللهِ بِغَيْرِ حَقٍّ فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: وہ لوگ جو کسی حق کے بغیر اللہ کے مال و جائداد کو خرچ کرتے ہیں آخرت کے دن جہنم میں جائیں گے۔(بخاری)

خلاصہ وتشریح:

الف: یہ روایت اکثر ان لوگوں کی خاطر استعمال کی جاتی ہے جو افراد دوسروں کے اموال پر ذمہ داریا عہدہ دار بنائے گئے ہوں اور اس ذمہ داری کے اعتماد کا بوجھ ان کے ذمہ ہوتا ہے، چنانچہ انہیں چاہئیے کہِ اس دولت میں سے کچھ بھی خرچ نہ کریں سوائے جو اس ذمہ داری کو انجام دینے کے لئے ضروری ودرکار ہو۔

ب: امام العینی ؒ کے بیان کے مطابق لفظ ’’ يَتَخَوَّضُونَ ‘‘ سے دولت میں سے بے تحاشہ بلاضرورت خرچ کرنا ظاہر ہوتا ہے اور وہ لوگ اس مال میں سے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے درکار مال کی ضرورتوں سے زیادہ دولت نکال لیتے ہیں، یہی وہ جرم ہے جس کا الزام ان کے سر لگتاہے جو دوسروں کے مال پر ذمہ دار بنائے گئے ہوں یہ ذمہ داری یتیموں اور مسکینوں (ضرورتمندوں)  کے مال کی سرپرستی کی ہو یا  وہ عوام کی دولت کے لئے ذمہ دار حاکم بنائے گئے ہوں۔

ت: ایسی ذمہ داری کی حساب دہی کے متعلق یہی احساس تھا جس کی وجہ سے ہمارے سربراہ عوام کی دولت کو ذاتی استعمال میں خرچ کرنے سے ڈرتے تھے حتّی کہ مثال کے طور پر سیدناعمرالخطابؓ ریاست کے مال سے خریدے ہوئے چراغ کی روشنی کو ذاتی ضرورتوں میں استعمال کرنے سے ڈرتے تھے ، اور اس کے مقابلے میں آج دنیا کے تمام رہنما و حکمرانوں کو دیکھیں جو اپنے ذاتی مفاد اورعیش وعشرت کے لئے لوگوں کے وسائل ومال کو بے دریغ خرچ کرتے ہیں جب کہ وہ  عوام(امت) کواُن کی بنیادی ضرورتوں اور سہولیات سے محروم رکھتے ہیں۔

دوسروں کے مال ہڑپ کرجانے کی ممانعت دوسروں کے مال ہڑپ کرجانے کی ممانعت Reviewed by خلافت راشدا سانی on 6:24 AM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.